Tags » World

FIVE

This is so good that I will likely post it on another blog, my more personal, mama-oriented blog, mamaguitar.wordpress.com – but it is also very inspirational from a filmmaking point of view. 76 more words

Film

Afghan official: Bomber hits NATO convoy in Kabul, 2 wounded

KABUL – An Afghan official says a suicide car bomber has targeted a NATO convoy in the capital, Kabul, wounding at least two people.

The city’s police chief who is at the scene of the blast, Gen. 97 more words

World

کشمیر : ایمنسٹی کی پہلی گراؤنڈ رپورٹ

فروری 1996ء میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک غیر ملکی سفارتخانہ نے افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں مقتدر شہریوں، سفارت کاروں اور افسروں کے علاوہ جموں کشمیر کے معروف قانون دان اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن جلیل اندرابی بھی شریک تھے۔ موضوع بحث اندرابی صاحب کو جان سے مارنی کی دھمکیاں تھیں۔ انہیں شک تھا کہ دھمکیوں کے پیچھے بھارتی فوج کا ایک افسر ہے۔ مجھے یاد ہے ، کھانا کھاتے ہوئے اندرابی صاحب روداد سنا رہے تھے اور سبھی مہمان ہمہ تن گوش تھے۔

انکا کہنا تھا کہ چند روز قبل انہوں نے اپنی مکان کی دوسری منزل سے کچھ مسلح مشکوک افراد کو آس پاس منڈلاتے ہوئے دیکھا تو چھت کے پاس ایک کونے میں چھپ کر انہوں نے ان افراد کی تصویریں کھینچیں۔ بعد میں ان افراد نے انکے گھر پر دستک بھی دی مگر انکی اہلیہ انکو باور کرانے میں کامیاب ہو گئی کہ وکیل صاحب گھر موجود نہیں ہیں۔ اگلی صبح اندرابی صاحب نے ایئر پورٹ کا رخ کیا اور پہلی فلائٹ سے دہلی روانہ ہو گئے۔ انہوں نے ان لوگوں کی تصویریں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایس بی چون، وزیر مملکت راجیش پائلٹ ، امریکی سفیر فرانک وازنیئر اور دوسرے متعلقہ افراد کو دیں۔ انہوں نے تصویروں میں کچھ افراد کی شناخت بھی کی جو انکے بقول بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

وزیروں، سفیروں اور محفل میں موجود مقتدر افراد نے تصویریں کھینچنے اور دہلی آ کر انہیں کرنے کو انکی غیر معمولی حاضر دماغی قرار دے کر خوب سراہا اور یقین دلایا کہ اب ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ بھارت کی اعلی سیاسی قیادت اور مغربی ممالک کے سفیروں کی یقین دہانیوں پر اعتبار کر کے جلیل اندرابی سرینگر لوٹ گئے۔

اس پارٹی کے صرف پندرہ دن بعد ہی خبر آئی کہ 8 مارچ 1996ء کو انہیں اپنی اہلیہ کی موجودگی میں اغوا کر لیا گیا ہے۔

انکی اہلیہ نے اغوا کاروں میں راشٹریہ رائفلز کی 35ویں یونٹ کے میجر اوتار سنگھ کو پہچان بھی لیا تھا۔ سبھی قانونی کارروائیاں کرنے کے باوجود تین ہفتے بعد انکی لاش دریائے جہلم میں تیرتی ملی۔ چونکہ معاملہ ایک معروف قانون دان کا تھا اس لیے کسی حد تک عدالتوں نے بھی سرگرمی دکھائی اور فوج پر دباؤ ڈالا کہ اوتار سنگھ کے خلاف قانونی چارہ جائی کی جائے۔ لا تعداد سمن جارے ہونے کے باوجود اوتار سنگھ عدالت میں پیش نہ ہوا۔ فوج نے اسے ریٹائر کر کے اور سفری دستاویزات فراہم کر کے کینڈا بھگا دیا۔ بعد میں وہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سیٹل ہو گیا اور قانونی اداروں حتی کہ ہائی کورٹ کا منہ چڑاتا رہا۔ 2012ء میں وہ خدائی انصاف کا شکار ہوا جب اس نے اپنی پوری فیملی کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔

معروف قانون دان کا قتل اور اوتار سنگھ کی کہانی کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیل پاور ایکٹ (افسپا) کی بربریت کی ایک ہلکی سی جھلک تھی۔ چونکہ یہ واقعہ ایک معروف شخصیف سے وابستہ تھا اس لیے میڈیا اور عدالت کے سامنے آیا ورنہ ہزاروں ایسے کیسز ہیں جو ریکارڈ تک نہ پہنچ پائے۔ کشمیر میں افسپا کے نفاذ کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی پہلی رپورٹ حال ہی میں شائع کی جو کشمیر پر پہلی گراؤنڈ رپورٹ ہے۔ اس سے قبل انکے کارکنوں پر کشمیر جانے پر پابندی تھی۔ چند سال قبل ایمنسٹی کو چند شرائط کے ساتھ بھارت کے شہر بنگلور میں انڈیا چیپٹر کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ دو سال قبل اس ادارے نے کشمیر میں پبلک سیفٹی یکٹ اور افسا پر کام کرنا شروع کیا۔ اگرچہ افسا پر کام گزشتہ برس ستمبر میں مکمل ہو گیا تھا مگر اس دوران اس رپورٹ کے بعد گزشتہ ہفتے یہ رپورٹ جاری کی گئی۔

رپورٹ میں سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست میں افسپا کے 25 برسوں کے دوران 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ غیر سرکاری ادارے اور کشمیر مین سرگرم مقامی کارکن یہ تعداد دوگنی بتاتے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ رپورٹ زمینی سطح کی تحقیق ، دستیاب دستاویزات اور آر ٹی آئی ایکٹ کے حکام کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ ایمنسٹی اہلکاروں نے انسانی حقوق کی پامالی سے متاثرہ 58 کنبوں سے بھی بات چیت کی۔ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے سکیورٹی فورسز میں جوابدہی کی ناکامی کے زیر عنوان اس رپورٹ میں فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تذکرہ کرنے کے علاوہ اس بات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ان واقعات کے ضمن میں سرکاری رد عمل انصاف کی فراہمی میں ناکام رہا ۔

رپورٹ میں ریاست کے اندر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں 2010ء میں نادی ہل بار ہمولہ کے تین جوانوں کی مڑھل سیکٹر میں فرضی جھڑپ کے دوران ہلاکت بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ رپورٹ میں 2010ء میں فورسز کے ہاتھوں 100 سے زائد مظاہرین کی ہلاکت، 3500 کی گرفتاری اور 120 پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ فورسز کے زیر حراست اموات اور گمشدگی کے کئی واقعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ریاست میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ 1990ء کی دفعہ 7 کے تحت ایسے واقعات میں ملوث فورسز اہلکاروں کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے۔

آرمی ایکٹ 1950ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز فوجی جوڈیشل نظام میں رہ کر زیادتیاں کرتے ہیں جسکے نتیجے میں انکے خلاف شفاف مقدمہ نہیں چلایا جاتا، فوجی عدالتوں کے ذریعے بھی بہت زیادہ ملوث اہلکاروں کے رینک میں کمی اور دو سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان معاملات کی ناقص تحقیقات، سول عدالت میں مقدمہ چلانے یا سرکاری انکوائری میں عدم تعاون کی وجہ سے انصاف کی فراہمی غیر یقینی ہے۔ شکایت کنندگان کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ ایمنسٹٰ کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت بھارت سے باہر عام جرائم جیسے عصمت دری اور قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی صرف اس صورت میں کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اس کا ارتکاب ڈیوٹی کے دوران کیا ہو۔ جموں کشمیر ڈسٹربڈ ایریا ہونے کی وجہ سے اہلکاروں کو ہر وقت ڈیوٹی پر تصور کیا جاتا ہے اور انکے خلاف صرف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے کئی بار فوجی عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے اس میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فوج آج تک ریاست میں تعینات اہلکاروں کی تعداد ظاہر کرنے سے انکار کرتی آئی ہے جبکہ ماہرین کے مطابق ریاست میں 6 لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات ہیں جو جنگجو مخالف کارروائیوں اور لائن آف کنٹرول کی حفاظت پر مامور ہیں۔ اسکے علاوہ ریاست میں امن اور قانون کی اندرونی عملداری کے لیے مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ آر پی ایف اور بی ایس ایف اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی تعینات ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے زیادتیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 18 اپریل 2012ء کو وزارت دفاع نے حق اطلاع سے متعلق قانون کے تحت ایک درخواست کے جواب مین بتایا کہ وزارت کو فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کے لیے 44 درخواستیں مصول ہوئیں جن میں سے 35 معاملات میں ایسا کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں افسپا کی فوری واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کا دائرہ کار صرف فوجی نوعیت کے جرائم تک محدود کیا جائے جبکہ معصوم شہریوں کےس اتھ زیادتیوں کے مرتکب فوجی اہلکاروں کے خلاف قانون ی کارروائی کی اجازت حاصل کرنے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔

اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کشمیر میں سیاسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ اقوام عالم کی ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ انکا کہنا ہے جب حکومت خود یہ اعتراف کرتی ہے کہ کشمیر مین تشدد کے حوالے سے کمی آئی ہے تو افسپا کے جاری رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنی دور حکمرانی میں اس ایکٹ کی منسوخی کے لیے خاصی تگ و دو کی تھی۔

انکا کہنا تھا اگر پوری ریاست سے اس ایکٹ کا خاتمہ نہیں ہوتا تو سرینگر یا اس سے متصل علاقون سے جہاں اب لا اینڈ آرڈر میں فوج کا عمل دخل نہیں ہے، اسکی واپسی ہو سکتی ہے۔ کانگریس کی قیادت والی گزشتہ حکومت میں وزیر داخلہ پی چد مبرم بھی اس ایکٹ کی منسوخی کے حامی تھے اور دے لفظوں میں انکو وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حمایت بھی حاصل تھی مگر فوج کے سخت رویے اور کابینہ میں وزیر دفاع اے کے انتونی کی مخالفت نے سیاسی قیادت کی تجویزوں پر پانی پھیر دیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے جمہوری نظام میں جہاں فوج کے مقابلے میں سیاسی قیادت کو فوقیت حاصل ہے، حقیقت میں کتنا درست ہے؟ اس لیے کہ سیاچن گلیشیر کے حوالے سے بھی فوج نے سیاسی قیادت کا فیصلہ ویٹو کر دیا تھا۔

سید افتخار گیلانی

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

Pakistan

SC Senate votes to remove Confederate flag

COLUMBIA, S.C. – The push to remove the Confederate flag from the grounds of the South Carolina Statehouse is about to clear its first hurdle. 703 more words

World

انجام دو گز زمین، خواہش دو ہزار مربع زمین

میں سرخیاں پڑھتی ہوں اور انکی سیاہیوں پر غور کرتی ہوں، بیانات دیکھئے اور انکے پس پردہ کہانیاں دیکھئے۔ دعوے سنئے اور بلندوبانگ دعوﺅں کی حقیقت جانئے۔ یقین جانئے! حکمرانوں کے جھوٹ اور ان کی دیدہ دلیری پر صدمہ آشنا حیرتیں ستاتی ہیں۔ آدمی کو کھانے کیلئے دو وقت دو روٹی‘ تن پر دو کپڑے‘ رہنے کو دو کمرے کافی ہوتے ہیں۔ نہ آدمی ایک وقت میں سو روٹیاں کھا سکتا ہے، نہ اعلیٰ اور انواع واقسام کے من وسلویٰ سارے کے سارے کھا سکتا ہے، نہ ہی دو سو جوڑے زیب تن کر سکتا، نہ دوسو ایکڑ محل کے دو سو کمروں میں بیک وقت سو سکتا۔ انسان اس کائنات کی سب سے کمزور مخلوق ہے۔

ابھی شوگر، بلڈپریشر، کینسر یا ہارٹ اٹیک ہو جائے تو مرنے میں چند ثانیے بھی نہیں لگتے۔ نرخرے پر ذرا سا انگوٹھا دبا کر رکھیں تو وہیں دم نکل جاتا ہے اور اللہ اللہ اتنا تکبر، اتنی اکڑ، اتنا طنطنہ…. کہ خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے، کاش ! کبھی ہمارے حکمران حضرت عمر فاروقؓ کی طرح رات کو چھوڑیں، دن میں انکے گھروں اور دلوں میں جھانک کر دیکھیں کہ پاکستانی قوم کس اذیت، مصیبت اور ملامت کی زندگی کاٹ رہی ہے۔ نہ بجلی ہے، نہ پانی ہے نہ کھانے کو کچھ ہے نہ کمانے کیلئے کچھ ہے، نہ انصاف ہے، نہ روزگار، نہ سکون ہے نہ تحفظ، نہ قانون ہے نہ مساوات ہے، نہ جمہوریت ہے اور نہ مارشل لاءہے…. بس ایک پل صراط ہے جس پر ایک ڈیڑھ کروڑ کے علاوہ پوری پاکستانی قوم اپنے شل اعصاب کے ساتھ دن رات گزار رہی ہے۔

بس کٹھن راستہ ہی راستہ ہے۔ منزل کے کوئی آثار نہیں، بہتری کی توقع نہیں، اچھے کے آثار نہیں۔ دو سال سے غیر ملکی شاہانہ دوروں کی تصویریں اور خبریں دل جلانے کو ملتی ہیں، روز معاہدوں کے نام پر صحافیوں، اینکروں، کیمرہ مینوں کو بلا کر پروجیکشن ہوتی ہے۔ اربوں روپوں کے پراجیکٹس کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، پاور پلانٹس کے نام رکھے جاتے ہیں لیکن جا کر تحقیق کیجئے تو دھول مٹی اڑ رہی ہوتی ہے۔

ہر پراجیکٹ پورا کرنے کی میعاد تین سے چار سال مقرر کی جاتی ہے تاکہ نئے الیکشن تک مزے کئے جا سکیں اور کوئی سوال نہ اٹھا سکے، کوئی نکتہ چینی نہ کر سکے، کوئی تنقید کی سولی پر نہ لٹکا سکے۔ اس کام کیلئے بھی ہمارے بہت سے صحافی اور اینکر خریدے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے آج صحافی برادری بھی طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے۔ تین بڑے طبقات میں ایک وہ صحافی برادری ہے جو حکمرانوں کو پیاری ہے اور ہر انٹرویو، خبر، کالم، ایڈیٹوریل، ٹاک شو میں حکومت کی بڑھ چڑھ کر حمایت کرتی ہے، یہ صحافی برادری کل تک غریب، مفلوک الحال یا لوئر مڈل کلاس تھی، آج یہ طبقہ امیر ترین ہو چکا ہے، انکے اثاثے بھی پاکستان سے بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں اور ان صحافیوں کو بڑے بڑے عہدے تفویض کر رکھے ہیں، انکے بھائی، بیٹے، بیٹیاں، بہنیں، بیوی اکثر کو کہاں کہاں نوازا گیا ہے، یہ ایک طویل اور پراسرار کہانی ہے، دوسرا طبقہ صحافیوں کا وہ ہے جو مصلحت سے چلتا ہے کہ کبھی ضرورت کیلئے ضمیر گروی رکھ دیا اور کبھی حق کا کلمہ ادا کردیا، یہ صحافیوں کا مڈل کلاس طبقہ کہلاتا ہے، تیسرا طبقہ عموماً سفید پوش ہی رہتا ہے، یہ لوگ سچے کھرے ایماندار صحافی ہیں جو کسی حالت میں نہیں جھکتے اور نہ حکمرانوں کی طاقت سے ڈرتے، نہ ان کی چمک سے دبتے۔

یہ حق اور سچ کے پرستار ہوتے ہیں لیکن انکے مالی حالات دگرگوں اور نوکریاں ہر وقت داﺅ پر لگی رہتی ہیں۔ صحافیوں میں اس تفرقے بازی کے بل بوتے پر آج کے حکمران عیش کررہے ہیں لیکن کانچ کا پل فولاد کے جوتوں سے پار نہیں کیا جاتا۔ نواز شریف کہتے ہیں ہم اتنے میگا واٹ بجلی چار سالوں میں پیدا کرلیں گے۔ ہم کرپشن ختم کردینگے۔ اسحاق ڈار روزانہ کہتے ہیں کہ ملک ترقی کررہا ہے، چوہدری نثار کہتے ہیں کہ ہم نے سکیورٹی بہتر بنا دی ہے۔ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہم بجلی اور توانائی کے ذرائع بحال کررہے ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں یہاں بجلی کی فراوانی ہوگی۔ شہباز شریف ہر دوسرے دن کہتے ہیں کہ 25 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں۔

جتنی بار وہ یہ بیان ہر دوسرے تیسرے دن داغتے ہیں۔ اس حساب سے تو اب تک پاکستان کے 20 کروڑ لوگوں کو روزگار مل چکا ہوتا، صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک کسی نوجوان کو جاب نہیں ملی ہے۔ جنہیں جانب مل جاتی ہے وہ میرٹ پر نہیں ہوتی۔ سرکاری سطح پر عجیب وغریب بلکہ محیرالعقول قسم کی شرائط رکھی جاتی ہیں، لوگوں کو سالوں جوتے گھسنے اور سینکڑوں درخواستوں کے بعد اگر کسی جاب کی امید ہو جائے تو وہ عمر اور سرکاری نوکری کے تجربے کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔

حیرت ہے کہ حکومت میں اتنے اتنے موٹے دماغ کے لوگ بیٹھے ہیں کہ ایک طرف روزانہ کہتے ہیں کہ جی حکومت لاکھوں یا ہزاروں لوگوں کی آسامی کیسے پر کرے، حکومت ہر سال بمشکل ڈیڑھ دو ہزار آسامیاں پر کرتی ہے جبکہ فارغ التحصیل افراد کی تعداد ہر سال تین چار لاکھ ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو سالوں گزر جانے کے باوجود نوکریاں نہیں ملتیں۔ مجبوراً یہ اپنی اعلیٰ تعلیم اور تجربے سے کم مرتبے والی نوکریاں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ بھی اللہ بھلا کرے پرائیویٹ سیکٹر کا …. جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو نوکریاں میسر آجاتی ہیں مگر پرائیویٹ سیکٹر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد سے دن رات کام لیتا ہے اور ان کا استحصال کرتا ہے۔

انہیں کم سے کم تنخواہ دی جاتی ہے، ریگولر بنیادوں پر کم سے کم تعینات کیا جاتا ہے اور ہر مد میں تنخواہ سے کٹوتی کر کے مالی اور اعصابی استحصال کیا جاتا ہے، اگر نوکری ملنے کے بعد تنخواہ بھی وقت پر اور پوری نہ ملے تو آپ سبھی اس ”کرب“ کا اندازہ کر سکتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت تیرہ کروڑ سے زائد افراد روزانہ یہ زہر پینے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں دہشتگردی کی ایک بڑی وجہ بیروزگاری ہے، بیروزگاری ایک ایسا معاشرتی استحصال ہے جس کی اذیت کا اندازہ حکمران اور بیوروکریٹ یا بزنس مین طبقہ کبھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ”بھوک“ اور ”بے عزتی“ یا ”بے یقینی“ کی شدت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ پاکستان میں وہ لوگ بھی زندہ ہیں جن کے آباﺅ اجداد نے یہ ملک بنایا۔ وزیراعلیٰ روز فیتے کاٹتے اور مطلب کے لوگوں میں ایکڑوں کنالوں زمین بانٹتے ہیں مگر ایک بیابان جنگل نما جگہ پر تین تین مرلے کے پلاٹ دینے کیلئے انکے پاس ٹائم نہیں، اس عرصے میں کئی تحریک پاکستان کے کارکن انتظار کرتے کرتے مر گئے مگر انہیں تین مرلے کا پلاٹ نصیب نہ ہوا….!!

ڈاکٹر عارفہ صبح خان

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

Pakistan

Greek PM races to restart talks after vote win

WATCH: George Georgolpolous, an Associate Professor and Graduate Program Director in the Department of Economics at York University, discusses what’s next for Greece after voters overwhelmingly rejected the terms of an international bailout. 684 more words

News

Hiker killed by lightning in Brecon Beacons 'believed to be carrying metal selfie stick'

One of two hikers killed by lightning in the Brecon Beacons is believed to have been carrying a metal selfie stick.

The pair died in separate strikes during a thunderstorm in Powys, Mid Wales, on Sunday. 141 more words

World