Tags » Taliban

The ignored perspective

By Faizan Hussain

Maulana Samiul Haq is a personality which needs no introduction. He is the Chancellor of Jamia Haqqania, Akhora Khattak. He is known in two different ways. 622 more words

Faizan Hussain

پاکستان میں دہشت گردوں کی حقیقی شناخت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(25 May, 2015)

بعض جماعتیں اور یوتھ آرگنائیزیشن یا تو دماغی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں یا قلبی طور پر سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان کے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے حامی ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ایک ہی تکفیری دیوبندی خارجی دہشتگرد گروہ مختلف تنظیموں کے ناموں کے لبادوں سے مختلف طبقوں اور لوگوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر قتل کر رہا ہے

فوج اور سیکیورٹی فورسز کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کہ ان کے خیال میں فوج امریکی غلام ہونے کی وجہ سے ناپاک اور مرتد ہے اور ان کے خیالی اسلام اورمتشدد خلافت کی راہ میں رکاوٹ شیعہ مسلمانوں کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کی ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی نظر میں شیعہ اسلام سے خارج ہیں

بریلوی سنیوں اور صوفیوں کو یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اس وجہ سے قتل کرتا ہے کیوں کہ بریلوی اور صوفی سنی اس تکفیری گروہ کے خیال میں مشرک و بدعتی ہیں احمدیوں کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کہ اس کے خیال میں احمدی ختم نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے مرتد اور واجب القتل ہیں

پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا قتل عام اس لیئے کرتا ہے کیوں کہ اس کے خیال میں وہ فوجی جوانوں کی اولادیں تھیں اور دشمن کی اولاد کا قتل ان کی نظر میں جائز ہے مسیحی برادری کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے مارتا ہے کیوں کہ یہ جاہل گروہ امریکی انتظامیہ اور پاکستانی مسیحیوں میں فرق ہی نہیں کر سکتا، ان کے خیال میں امریکہ کا مطلب عیسائی ہیں معتدل دیوبندیوں کو بھی یہ گروہ اس لیئے نشانہ بناتا ہے کیوں کہ وہ ان کے انتہا پسندانہ خیالات کی حمایت نہیں کرتے اور شیعہ مسلمانوں اور بریلوی سنیوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور نماز پڑھتے ہیں

اس لیئے یہ بات تو صحیح ہے کہ اس تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ، جس کو ہم کالعدم اہل سنت والجماعت، انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جند ﷲ، تحریک طالبان، داعش یا القاعدہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے پاکستان میں جانتے ہیں، کا نشانہ تمام پاکستانی ہیں لیکن یہ بات بھی اتنی ہی صحیح اور درست ہے کہ اس گروہ کے نزدیک شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی وجوہات اور فوجیوں کے قتل کی وجوہات میں فرق ہے۔

شیعہ مسلمان کو یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد اس کے عقیدے، نظریئے اور مسلک کی وجہ سے قتل کرنا جائز اور مباح سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا قتل کرتے ہیں نہ کہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے۔ اس لیئے بعض جماعتیوں اور یوتھیاؤں کا یہ کہنا کہ یہ نہیں کہا جائے کہ پاکستان میں یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد اقلیتی گروہوں کا قتل عام کر رہے ہیں بالکل ایک بے سر و پا مطالبہ ہے بلکہ در حقیقت ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے جرائم اور ان کے مقاصد پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے

Pakistan

Chinese tourist kidnapped by Taliban in Pakistan a year ago apparently in new video

The Associated Press

DERA ISMAIL KHAN, Pakistan (AP) — A militant video released Sunday purported to show a Chinese tourist kidnapped by Taliban-allied fighters in Pakistan a year ago asking for his government to help him be released. 277 more words

At least 10 Afghan police officers killed in Taliban assault

KANDAHAR, Afghanistan — Officials in Afghanistan say at least 10 police officers have been killed in an ongoing Taliban assault in the country’s volatile south. 40 more words

News

Suspected Taliban financer held in Karachi

KARACHI: An operative of banned Pakistani Taliban group was arrested from Pakistan’s southern port city of Karachi late Friday night, police said.

According to the police, the suspect, Rashid, used to provide financial assistance to members of Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) in Karachi. 136 more words

PAKISTAN

The Sun Sets In Pakistan

On 16th December, 2014, a horrifying attack in Peshawar’s Army Public School shook the country, and probably the planet. Two years before this attack, on 16th December 2012, one of the most terrible rape cases had happened in Delhi. 703 more words

Blood

صبین محمود عبدالعزیز(لال مسجد)کے خلاف مہم پر نشانہ بنی

کراچی: صفورہ گوٹھ بس حملے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے گرفتار 4 مرکزی ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ انسانی حقوق کی کارکن سبین محمود کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مہم چلانے پر قتل کیا گیا ہے۔

پولیس کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ راجا عمر خطاب نے کہا ہے کہ اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے پیچھلے فرقہ وارانہ دہشت گردی تھی تاہم دہشت گرد اس واقعے سے بین الاقوامی سطح پربھی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد کراچی اور حیدرآباد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بس پر حملے میں رہ جانے والے ایک اہم ثبوت کے باعث ان دہشت گردوں کی گرفتاری ممکن ہوسکی ہے۔ عمر خطاب نے کہا کہ وہ اس دہشت گرد گروپ کی گرفتاری کے لئے گذشتہ سال اپریل سے کام کررہے ہیں۔

آئی بی اے گریجویٹ سے ‘عسکریت پسند’ تک؟

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ آخری ثبوت نے ان دہشت گردوں تک پہچنے میں مدد فراہم کی ہے جسے وہ اس وقت میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے۔ گرفتار ہونے والے 4 دہشت گردوں میں سے صفورہ بس حملے کے ماسٹر مائنڈ طاہر عرف سائیں کو گلشن معمار سے گرفتار کیا گیا ہے، یہ علاقہ حملے کے مقام سے کچھ ہی فاصلے موجود ہے۔ سی ٹی ڈی حکام نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر ملزم تفتیش میں مدد نہیں کررہا تھا تاہم پولیس افسران کی جانب سے اس کے گھر والوں کی تفصیلات بتائے جانے کے بعد ملزم نے صفورہ بس حملے اور دیگر کارروائیوں کے حقائق بتانے شروع کردیئے۔ عمر خطاب نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ طاہر 2007 ء میں حیدرآباد پولیس کے ہاتھوں ہندو برادری کے فرد کو ہلاک کرنے اور اغوا برائے تاوان کی الزامات کے تحت گرفتار ہو چکا ہے تاہم بعد میں اس کو رہا کردیا گیا تھا۔ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے گذشتہ دنوں طاہر کے بھائی شاہد کو جو کہ مبینہ طور پر دہشت گرد بتایا جاتا ہے، کو کراچی کے مضافات میں ایک مقابلے کے دوران ہلاک کردیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق صفورہ گوٹھ بس حملے کے گرفتار مرکزی ملزم سعد عزیز ٹرینگ حاصل کرنے کے لئے دو بار وزیرستان گیا تھا۔

سعد اردو سے انگریزی میں پمفلیٹ کا ترجمع کرتا تھا اور سبین محمود کے چلائے جانے والے سوشل میڈیا فورم ٹی ٹو ایف کے سیمینار میں دو بار شریک ہوچکا تھا۔ تیسرے دہشت گرد کے حوالے سے پولیس حکام نے بتایا کہ محمد اظفر عشرت کا تعلق ایک امیر گھرانے سے ہے اور وہ دہرا جی کالونی میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس کا مذکورہ گھر دیگر دہشت گرد چھپانے کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جبکہ ملزم امریکی شہری ڈاکٹر لوبو پر حملے میں ملوث ہے۔ سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق گرفتار ہونے والا چوتھا دہشت گرد حافظ ناصر، عمر حفیظ نامی شخص کا بھائی ہے جو کہ اس دہشت گرد گروپ میں نمبر ٹو پر ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم دہشت گردوں کو انتظامی مدد فراہم کرتا تھا اور دہشت گردوں کے ان کے خاندانوں سے رابطے کا ذمہ دار بھی تھا۔ عمر خطاب نے کہا کہ مذکورہ دہشت گرد گروپ 35 افراد پر مشتمل ہے اور ان میں سے بیشتر حیدرآباد میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ گروپ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لئے موبائل فون کا استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی دیگر جدید رابطے کے آلات استعمال کرتا ہے۔

عمر خطاب نے کہا کہ ان ملزمان سے مزید تفتیش اور اس گروپ کے دیگر تنظیموں سے رابطے کے حوالے سے تحقیقات کے لئے بہت جلد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ صفورہ واقع کی تفیصلات بتاتے ہوئے عمر خطاب نے کہا کہ حملے میں 12 ملزمان شامل تھے اور مختلف راستوں سے واقعے کے مقام تک آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب بس اسماعیلی برادری کو لے کر الاظہر گارڈن سے نکلی تو انھوں نے موٹر سائیکل پر بس کا پپیچھا کیا اور بس کو عنارہ گارڈن کے قریب روک کر پانچ ملزمان نے بس میں داخل ہوکر کارروائی کا آغاز کیا۔ ملزمان نے بس کے ڈرائیور کو نشست سے ہٹا کر بس میں سوار لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور بعد میں ایک ایک فرد کے سر پر قریب سے گولیاں چلائیں۔ عمر خطاب نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کے دہشت گردوں نے ان کارروائیوں کے لئے رقم اغوا برائے تاوان کی وارداتوں سے حاصل کی ہے۔

Pakistan